اکثریت ڈیجیٹل

فاطمہ شعیب — ڈائریکٹر اور صنعتکار

مزاح | 06 Mar 2026
سوال: سب سے پہلے اپنے تعارف اور کاروباری سفر کے بارے میں بتائیے۔
فاطمہ شعیب: میں ایک کاروباری خاتون اور خوردنی تیل کی صنعت سے وابستہ ہوں۔ بطور ڈائریکٹر اور مالک میرا مقصد ہمیشہ یہ رہا ہے کہ ہماری کمپنی نہ صرف معیاری مصنوعات تیار کرے بلکہ قومی سطح پر غذائیت کی بہتری میں بھی کردار ادا کرے۔ اسی مقصد کے تحت ہم نے فورٹیفائیڈ خوردنی تیل کی پیداوار کو ترجیح دی تاکہ عوام کو صحت مند اور غذائیت سے بھرپور خوراک فراہم کی جا سکے۔
سوال: پاکستان میں LSFF (لارج اسکیل فوڈ کے حوالے سے آپ کا کردار کیا ہے؟
فاطمہ شعیب نے کہا کہ لارج اسکیل فوڈ دراصل ایک ایسا پروگرام ہے جس کا مقصد عام استعمال کی غذاؤں میں ضروری وٹامنز اور منرلز شامل کر کے غذائی کمی کو پورا کرنا ہے۔ ہماری کمپنی نے اس سلسلے میں قومی فورٹیفیکیشن معیارات پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا ہے۔ ہم نے اپنی مل میں جدید آلات نصب کیے ہیں اور ٹیسٹنگ کے جدید طریقے اپنائے ہیں تاکہ معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔
فاطمہ شعیب کا مذید کہنا تھا کہ ہماری کوشش رہی ہے کہ پیداواری نظام کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنایا جائے۔ اس مقصد کے لیے ضروری مشینری اور ٹیسٹنگ ڈیوائسز نصب کی گئیں۔ اس کے علاوہ Nutrition International کے تعاون سے عملے کی تربیت، نگرانی اور کوالٹی اشورنس کے نظام کو مضبوط کیا گیا۔ ان اقدامات سے فورٹیفائیڈ خوردنی تیل کی پیداوار کے معیار میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
سوال: آپ پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PVMA) کی پہلی خاتون ایگزیکٹو ممبر ہیں۔ اس تجربے کے بارے میں کیا کہیں گی؟
فاطمہ شعیب: یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ میں PVMA کی پہلی خاتون ایگزیکٹو ممبر بنی۔ اس صنعت میں عموماً مردوں کی اکثریت رہی ہے، مگر مجھے خوشی ہے کہ خواتین بھی اب اس شعبے میں قیادت کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ میری کوشش ہے کہ صنعت میں شفافیت، معیار اور بہتر پالیسی سازی کو فروغ دیا جائے۔
سوال: کاروبار کے ساتھ ساتھ سماجی خدمات میں بھی آپ سرگرم رہی ہیں، اس بارے میں بتائیں۔
فاطمہ شعیب: میرے نزدیک کاروبار کا مقصد صرف منافع نہیں بلکہ معاشرے کی خدمت بھی ہے۔ سیلاب کے دوران ہم نے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) کے ساتھ مل کر متاثرہ علاقوں میں فورٹیفائیڈ تیل فراہم کیا تاکہ متاثرہ خاندانوں کو غذائیت سے بھرپور خوراک میسر آ سکے۔
سوال: پاکستان میں غذائیت کے مسائل کے حل کے لیے آپ کیا پیغام دینا چاہیں گی؟
فاطمہ شعیب: غذائیت کی کمی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اور اس کے حل کے لیے حکومت، صنعت اور سماجی اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ فورٹیفائیڈ خوراک اس مسئلے کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اگر ہم معیار اور آگاہی دونوں پر توجہ دیں تو ہم ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔
سوال: خواتین کے لیے آپ کا پیغام کیا ہے؟
فاطمہ شعیب: میرا ماننا ہے کہ خواتین میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ اگر انہیں مواقع اور اعتماد دیا جائے تو وہ ہر شعبے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتی ہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ زیادہ سے زیادہ خواتین صنعت اور کاروبار کے میدان میں آگے آئیں اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔
فاطمہ شعیب کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی نیٹوریشن کے فروغ، معیاری پیداوار اور عوامی صحت کے بہتر نتائج کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گی تاکہ پاکستان میں غذائیت سے بھرپور خوراک کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے