جب قانون تلوار بن جائے: کے پی کا برطرفی ایکٹ، جامعات اور مستقبل کا قتل(ریمول ایکٹ)
تعلیمی خبریں | 14 Jan 2026
جب قانون تلوار بن جائے: کے پی کا برطرفی ایکٹ، جامعات اور مستقبل کا قتل(ریمول ایکٹ)
ملازمین اور اسکے خاندان کے ہزاروں ا فراد کا معا شی قتل
تحر یر۔ہد ا یت ا لر حمن ہو تی
قانون کا بنیادی مقصد انصاف کی فراہمی، اداروں کا استحکام اور عوام کے اعتماد کا تحفظ ہوتا ہے۔ مگر جب قانون خود ناانصافی کا ذریعہ بن جائے، تو وہ ڈھال نہیں رہتا بلکہ تلوار بن جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے متعارف کرایا گیا کے پی ملازمین (ملازمت سے برطرفی) ایکٹ، 2025 بدقسمتی سے اسی تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔
حکومت نے اس قانون کو “میرٹ” اور “شفافیت” کے دلکش نعروں کے ساتھ پیش کیا، مگر عملی طور پر یہ قانون ہزاروں محنتی، اہل اور قانونی طور پر بھرتی ہونے والے ملازمین کے لیے ایک اجتماعی سزا بن چکا ہے۔ اس کے سب سے بھیانک اثرات سرکاری جامعات پر مرتب ہو رہے ہیں، جو کسی بھی معاشرے کی فکری، تحقیقی اور سماجی ترقی کی بنیاد ہوتی ہیں۔
جامعات: زوال کے دہانے پر
صوبے کی متعدد سرکاری جامعات میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 90 سے 95 فیصد تک تدریسی و غیر تدریسی عملہ اس ایکٹ کی زد میں آ سکتا ہے۔ اس کے نتائج کا تصور ہی لرزا دینے والا ہے:
خالی کلاس رومز،
بند تحقیقی منصوبے،
ادھورے سیمسٹرز،
اور ہزاروں طلبہ کا غیر یقینی مستقبل۔
یہ وہ لوگ نہیں تھے جو کسی سیاسی سفارش یا خفیہ دروازے سے اندر آئے۔ یہ اساتذہ، محققین، لیب ٹیکنیشنز، ڈاکٹرز اور انتظامی افسران تھے جنہوں نے نہ صرف برسوں جامعات کو چلایا بلکہ محدود وسائل کے باوجود صوبے کا تعلیمی تشخص برقرار رکھا۔
بھرتیاں: قانونی، شفاف اور منظور شدہ
یہ دعویٰ کہ ان تقرریوں میں بے ضابطگیاں ہوئیں، حقائق کے منافی ہے۔ 2023 میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی پابندیوں کے بعد، جامعات نے تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے بھرتیوں کا عمل مکمل کیا۔
ہر تقرری:
یونیورسٹی سینڈیکیٹ کے سامنے پیش ہوئی
جہاں اسٹیبلشمنٹ ڈیپارٹمنٹ، فنانس ڈیپارٹمنٹ، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC)
چانسلر کے دفتر اور سب سے اہم
خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن (KPPSC) کا نمائندہ موجود تھا
کئی ملازمین پہلے کنٹریکٹ پر رکھے گئے، برسوں خدمات انجام دیں، اپنی کارکردگی ثابت کی، اور پھر تمام قواعد کے مطابق مستقل کیے گئے۔
اگر وہ تقرریاں غیر قانونی تھیں، تو سوال یہ ہے:
KPPSC کے نمائندے نے اعتراض کیوں نہ کیا؟
سینڈیکیٹ کی منظوری کس بنیاد پر دی گئی؟
اور اب انہی فیصلوں کو کالعدم قرار دینا کس قانون، کس اخلاق اور کس منطق کے تحت ہے؟
یہ طرزِ عمل صرف ملازمین کے ساتھ ناانصافی نہیں بلکہ خود ریاستی اداروں کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے۔
نگران حکومت کی سزا، مستقل ملازمین کو کیوں؟
یہ ایکٹ، جو 27 جنوری 2025 کو منظور ہوا، جنوری 2023 سے فروری 2024 کے درمیان ہونے والی تمام تقرریوں کو محض اس بنیاد پر غیر قانونی قرار دیتا ہے کہ وہ نگران دور میں ہوئیں۔
یہاں اصل سوال یہ ہے کہ:
اگر نگران حکومت آئینی مدت سے تجاوز کر گئی،
اگر ریاستی نظام نے کام جاری رکھا،
اگر تقرریاں قانونی فورمز سے منظور ہوئیں،
تو اس کی سزا ان ملازمین کو کیوں دی جا رہی ہے جنہوں نے نہ قانون توڑا، نہ اختیار سے تجاوز کیا؟
یہ اجتماعی سزا ہے—اور اجتماعی سزا کبھی انصاف نہیں ہوتی۔
تعلیم، اعتماد اور مستقبل پر حملہ
یہ ایکٹ صرف نوکریاں ختم نہیں کر رہا، بلکہ:
اعلیٰ تعلیم کو کمزور
اداروں کو غیر مستحکم
میرٹ کے تصور کو مشکوک
اور عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے
جامعات اور سرکاری ادارے کوئی خصوصی رعایت نہیں مانگ رہے۔ وہ صرف یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ جو لوگ شفاف، قانونی اور باقاعدہ طریقے سے بھرتی ہوئے، انہیں تحفظ دیا جائے، نہ کہ قربانی کا بکرا بنایا جائے۔
فیصلہ آج، تاریخ کل سنائے گی
آج ہزاروں ملازمین اور طلبہ کا مستقبل خیبر پختونخوا کے قانون اور اعلیٰ تعلیم کے وزراء کے ہاتھ میں ہے۔
اگر اس قانون پر نظرِ ثانی نہ کی گئی، تو یہ صرف دفاتر اور کلاس رومز بند نہیں کرے گا، بلکہ امید، اعتماد اور ترقی کے دروازے بھی بند کر دے گا۔
تاریخ یہ ضرور پوچھے گی کہ:
کیا حکمرانوں نے انصاف کا ساتھ دیا؟
یا ایک خام، عجلت میں بنائے گئے قانون کو پورے صوبے کے مستقبل پر مسلط کر دیا؟
خیبر پختونخوا اس وقت کسی اور بحران کی متحمل نہیں ہو سکتا—خصوصاً ایسا بحران جو اس کی نوجوان نسل اور علمی بنیادوں کو کھوکھلا کر دے۔