وینزویلا کا واقعہ اور عالمی سلامتی کا نیا موڑ
تحریر: شمس الحق
تیل کے وسائل سے مالامال لاطینی امریکہ کے ایک خودمختار ملک وینزویلا
کے سربراہِ مملکت اور اُن کے شریکِ حیات کی امریکہ کی جانب سے مبینہ “گرفتاری” کو محض ایک سکیورٹی واقعہ قرار دینا حقائق کو محدود تناظر میں دیکھنے کے مترادف ہوگا۔ درحقیقت یہ واقعہ عالمی سلامتی کے نظام میں ایک عبوری دور کے عملی آغاز کی علامت ہے—ایک ایسا دور جس میں طاقت، قانون پر سبقت لے جاتی دکھائی دیتی ہے، سفارت کاری پس منظر میں چلی جاتی ہے اور عسکری صلاحیتیں ضابطہ جاتی فریم ورک پر فوقیت حاصل کر لیتی ہیں۔
بین الاقوامی نظام اس وقت ایک نئے اور متصادم تصور کے دہانے پر کھڑا ہے۔ اگرچہ بظاہر اسے عالمی جنگ کا نام دینا قبل از وقت ہوگا، تاہم اس میں منظم محاذ آرائی کے وہ تمام بنیادی عناصر موجود ہیں جو کسی بڑے تصادم کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔ طاقت کے توازن میں یہ تبدیلی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی سیاست ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں فیصلے قانونی نکات سے زیادہ عملی قوت کی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں۔
اس بدلتے ہوئے ماحول میں محض قانونی ڈھانچے ریاستوں کی سلامتی کی ضمانت فراہم کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ اب بقا اور مؤثر deterrence صرف اسی ریاست کے لیے ممکن دکھائی دیتی ہے جو معتبر اور مضبوط عسکری صلاحیت رکھتی ہو۔ وینزویلا کا واقعہ بین الاقوامی سیکیورٹی نظام اور عالمی نظم (انٹرنیشنل آرڈر) میں ایک واضح اور فیصلہ کن تبدیلی کا اشارہ ہے۔
یہ واقعہ اس تلخ حقیقت کو بھی بے نقاب کرتا ہے کہ تزویراتی تنازعات کے حل کے لیے قانونی اور سفارتی ذرائع کی جگہ سخت طاقت کا استعمال مرکزی حیثیت اختیار کر رہا ہے۔ اس رجحان کے نتیجے میں دنیا کے مختلف ممالک کی آزادی، داخلی خودمختاری اور اقتدارِ اعلیٰ کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ یہ تمام اقدامات اقوام متحدہ کی منظوری اور مینڈیٹ کے بغیر، اور عالمی قوانین سے ہٹ کر کیے گئے۔
اس سے بھی زیادہ مایوس کن امر یہ ہے کہ چین اور روس سمیت بڑی عالمی طاقتیں اس معاملے پر سرد مہری کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ توقع یہ کی جا رہی تھی کہ عالمی برادری اس واقعے پر واضح اور اجتماعی ردِعمل دے گی، مگر اس کی خاموشی نے بین الاقوامی قانون کی کمزوری اور طاقت کی سیاست کی بالادستی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
وینزویلا کا واقعہ محض ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ آنے والے وقت میں عالمی سیاست کے خدوخال متعین کرنے والا لمحہ بن سکتا ہے—ایک ایسا لمحہ جس میں دنیا کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ قانون کی حکمرانی کی طرف واپس لوٹنا چاہتی ہے یا طاقت کے بے رحم اصول کو قبول کرنے پر آمادہ ہے۔